Dataset Viewer
Auto-converted to Parquet Duplicate
audio
audioduration (s)
0.38
14.7
text
stringlengths
4
247
اسلام علیکم ناظرین میں ہوں منصور علی خان آپ کو اپنے اس یوٹیوب چینل کے اوپر ایک بار پھر خوش آمدید کہوں گا
درخواست ہے آپ سے کہ اگر آپ اس چینل کو سبسکرائب کرنا چاہتے ہیں تو سبسکرائب کے بٹن کو پریس کرنا مت بھولیے گا اور بیل آئیکن کو ضرور پریس کیجئے گا
جس ٹوپک کے اوپر آج میں بات کرنا چاہ رہا ہوں وہ واقعہ تو ویسے لوکل ہے
لیکن جو ڈسکشن ہے وہ انٹرنیٹنل ہے
واقعہ ہے جو کراچی کے اندر واقعہ پیش آیا تھا کپٹن سفدر کے حوالے سے
جب آئی جی سندھ کے حوالے سے بلاول فٹو زردالی نے کہا کہ جناب آئی جی سندھ کو جو ہے وہ
صبح چار بجے اپنے گھر سے اٹھایا گیا لے جایا گیا اور اس کے بعد ان سے ایک ایف آئی آر
کے اوپر دستخط کروائے گئے ایریس وارنٹس کے اوپر دستخط کروائے گئے اور اس کے بعد کیپن سفدر کو
گرفتار کیا گیا وہ ساری سٹوری آپ اس کی جانتے ہیں میں اس کی مزید ڈیٹیلز میں نہیں جانا چاہتا
لیکن
انگل اس کے اندر بات یہ ہے کہ جہاں پہ پاکستان کے اندر اس کے اوپر ڈیبیٹ ہو رہی تھی، ڈسکشنز ہو رہی تھی۔
سوشل میڈیا کے اوپر کتی تک بات ہو رہی تھی اس کا ایک انٹرنیشنل آنگل بھی ہے
جیسے ہی یہ واقعہ ہوتا ہے
اگلے چوبیس گھنٹے کے اندر ہم ایک انٹرنیشنل موومنٹ دیکھتے ہیں اس معاملے سے
اور وہ کیا ہے؟
کہ بھارت کے اندر
جو سوشل میڈیا کی ٹرول فیکٹریز وہاں پہ بیٹھی ہوئی ہیں
جو بیٹھ کے اس
سارے معاملے کو اچھالنا چاہتی تھی
انہوں نے ایک دم اپنا کام کرنا شروع کیا
اور اس کے اندر پروپیگنڈا کو کس طرح تبدیل کیا گیا اس کی تفصیلات سے میں آگے چل کے آپ کو آگاہ کروں گا
سب سے پہلے یہ کیا گیا کہ اس کے اندر سے ایک یہ ایلیمنٹ ڈھونڈنے کی کوشش کی گئی
کہ جناب جس طرح کراچی کے اندر فوج
اور سندھ کی پولیس آمنے سامنے آکے کھڑی ہو گئی ہے
یہ پورا محول کریٹ کیا گیا
کہ جناب کراچی کے اندر اس وقت تھانوں کے اوپر
پاکستان کی فوج نے آکے قبضہ کر لیا ہے
گلی گلی کے اندر اب فوج اور
سندھ کی پولیس
ہم نے سامنے آکے کھڑی ہو گئی ہے
اور یقین کیجئے کہ یہ کوئی
ایک دو کاؤنٹ نہیں تھے اس ورسکرین کے اوپر
آپ کو وہ چند سکرین شوٹس نظر بھی آ رہے ہوں گے کہ سوشل میڈیا کے اوپر کس طرح
یہ حرکتیں کی
اور بیٹھ کے اس کو اس طرح کا ایک امیج دینے کی کوشش کی گئی
یہاں سے یہ سلسلہ شروع ہوتا ہے
چند ٹویٹس سے یہ سلسلہ شروع ہوتا ہے
اور اس کے بعد نظر آنا شروع ہوتا ہے کہ آہستہ آہستہ باقاعدہ طور پر
اس جھوٹے پروپاگنڈے کو ایک ایک کر کے ہر جگہ
پھیلائے جانا شروع کیا جاتا ہے
مسئلہ صرف بھارت تک نہیں رہتا
اس کے بعد بھارت سے نکل کے
ان لوگوں کے ایجنٹس
جو مختلف ملکوں کے اندر بیٹھے ہوئے ہیں چاہے وہ امریکہ کے اندر ہو بردانیا کے اندر ہو یا کینیڈا کے اندر ہو ان کو سلیپر سیلز کہا جاتا ہے یہ سوشل میڈیا کے سلیپر سیلز ہوتے ہیں
یہ ویسے کچھ نہیں کرتے
لیکن جیسے ہی اس قسم کی کسی ٹرنڈنگ کا سلسلہ شروع ہوتا ہے پاکستان کے خلاف
انہوں نے ٹرینڈنگ کرنی ہو
اور اس کے بعد وہ بھی جمپن کر جاتے ہیں وہ بھی اس سارے معاملے کے اندر آکے کھڑے ہو جاتے ہیں اور اس جھوٹے پاپرگنڈے کو ری ٹویٹ کرنا شروع کرتے ہیں
را کی جانب سے
یہ پوری ایک مہم ہوتی ہے
یہ ہر دفعہ پاکستان کے خلاف جب بھی کوئی معاملہ ہوتا ہے
چاہے وہ کلبوشن کا معاملہ ہو
چاہے وہ جہاز کے گرنے کا واقعہ ہو
جائے پاکستان اور بھارت کی آپس میں
فوجی جھڑ پے ہو
چاہے معاملہ بورڈر ایریا کے اندر سیکیورٹی کا ہو
جائے کشمیر کے اندر کوئی معاملہ ہو
ہر جگہ یہ دیکھا جاتا ہے کہ یہ ٹرول فیکٹریز جو ہیں اکدم ایکٹیویٹ ہوتی ہیں
اب کراچی کے اندر جو واقعہ پیش آیا اس کے اندر بھی راو فنڈڈ یہ تمام ٹرول فیکٹریز جو ہیں وہ ایکٹیویٹ کی گئی
ہماری اطلاعات کے مطابق زیادہ تر ان کا جو پڑاؤ ہے
وہ بنگلور کے اندر بھارت کے اندر نظر آتا ہے جہاں پر ایک پورا آئی ٹی کا سیکٹر جو ہے
وہ اس معاملے کے اوپر ڈیزگنیٹ کیا گیا ہے
اور اس کے ساتھ ساتھ جو
جنوبی بھارت کا علاقہ ہے
وہاں پہ اور بھی مختلف چھوٹے چھوٹے شہر ہیں جہاں پہ ان لوگوں کو بٹھا کے
اس قسم کی خبروں جھوٹی پروپیگنڈا خبروں کو جو ہے
وہ پھیلائے جاتا ہے
اچھا دوسری بات یہ کہ
کیا میں کوئی بہت بڑا نیا انکشاف کر رہا ہوں؟
نہیں
آپ کے لئے شاید یہ انفورمیشن نہیں ہوگی میرے لئے یہ انفورمیشن نہیں نہیں ہے
کس طرح چلتا ہے
سب سے بڑی نشانی اس کی یہ اگر آپ میری بات کو ویریفائی کرنا چاہتے ہیں
گوگل کے اوپر جائیے
یاہو کے اوپر جائیے
اور جا کر وہاں پہ دیکھیں
کہ بھارتی
جالی ایک آنٹس کو فیس بک نے
اور ٹوٹر نے
کس حد تک بند کیا ہے بلکہ صرف بند نہیں کیا
ان لوگوں کو ٹریس کر کے ان کو بین کیا گیا ہے
اور یہ جو ٹرول فیکٹریاں ہیں
یہ صرف پاکستان کے خلاف کام نہیں کرتی
یہ بی جے پی کو پوری طرح سپورٹ کرتی ہے
نرندر بودی کے کسی بھی ایجنڈے کو جو پروپوگیٹ کرنا ہو پھیلانا ہو تو اس کے لیے بھی ایک دم یہ کام کرنا شروع کرتی ہے
کراچی کا اب یہ جو واقعہ پیش آتا ہے اس کے بعد یہ
تمام ٹرول فیکٹریوں جو ہیں پہلے تو سوشل میڈیا کے اوپر کام کرتی ہیں۔
اس کے بعد اس کی ایک سٹیج ٹو آتی ہے
سٹیج ٹو میں کیا ہوتا ہے کہ یہ سوشل میڈیا سے نکل کے مین سٹریم میڈیا کی طرف آتے ہیں
اور مین سری میڈیا کا بھی میں اس وقت آپ کو سکرین کے اوپر یہ خبر کا لنک دکھا رہا ہوں
اب یہ جان بوچ کے یہ سیول وار کا لفظ استعمال کیا جارہا ہے۔
جبکہ ایسی کوئی صورتحال نہیں ہے
کراچی کی کسی سڑک کے اوپر آپ کو کوئی ایسی دو یونیفارمز آپس میں آنے سامنے نظر نہیں آ رہے بلکہ بڑی اچھی ڈیولیپنٹ یہ ہوئی تھی کہ آر وی چیف نے آئی جی سندھ کو فون کر کے مسئلہ کا حل دھوننے کی کوشش کی تھی انکوائری کا حکم دیا تھا سب کچھ بلکل ٹھیک چل رہا ہے
پاکستانی چینلز آپ دیکھیں ماشاءاللہ پاکستانی چینلز نے پوری طرح اس معاملے کی بڑی اچھی کوریج کی
لیکن بھارت نے اس کو
سپن ڈاکٹرنگ کس طرح کرتے ہیں اس کو ٹویسٹنگ کس طرح کرتے ہیں
اب جو مینشری میڈیا ہے اس کے اوپر جان بوجھ کے اس طرح کی خبریں
ڈالنا شروع کیے گی
مقصد کیا تھا؟
کہ جناب پاکستان کے اندر تو اس وقت بڑے برے حالات چل رہے ہیں پاکستان کے اندر جو ہے وہ پولیس اور فوج جو ہے وہ آمنے سامنے آکے کھڑی ہو گئی ہے
README.md exists but content is empty.
Downloads last month
4